پیر[2]

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - اتوار کے بعد کا دن، دوشنبہ، سوموار۔  پادری سے وہ ملے پہلے تو کیا شیخ کو عذر دیکھیے پیر کا نمبر تو ہے اتوار کے بعد      ( کلیات، اکبر، ٢٢٧:٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مستعمل، 'دوشنبہ' کو متبرک سمجھتے ہوئے 'پیر' کی مناسبت سے 'پیر' کہنا شروع کر دیا۔ ١٦٩٥ء میں "دیپک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر